فاٹا کا انضمام اس طرح ہوا ہے جیسے اس بندوق کو شلوار میں زبردستی ڈال دیا گیا ہیں
فاٹا کو زبردستی خیبر پختونخواہ میں ضم کروانا فاٹا والوں کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کے فیصلے کی خلاف ورزی ہیں کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ء1947 میں نیو ڈلی میں پشتو زبان میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ فاٹا والوں کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا، اگر فاٹا والے خود چاہے تو خیبر پختونخواہ میں شامل ہو سکتے ہیں
یا تو پھر ہمارے قائد قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے نہیں تھے اور یا تو کسی کی ڈر و خوف کی وجہ سے ہمارے پاکستانی اداروں اتوار کے روز عدالتیں لگا کر فاٹا والوں سے اپنا حق چین لیا جو پاکستان بننے سے پہلے نیو ڈلی قائد اعظم محمد علی
زندگی میں دو دفعہ اتوار کو ہمارے پاکستانی عدالتیں دیکھنے کو ملی ہے ایک دفعہ فاٹا پر جبری انضمام مسلط کرنا اور دوسری دفعہ عمران خان کا تختہ الٹنے کے لئے سپریم کورٹ کے دروازے کھول دیے گئے اور یہ دونوں فیصلے راتوں رات ہوئے باقی انہی عدالتوں میں غریبوں کا سال بر کیس چلتے رہتے ہیں غریب مر جاتا ہیں لیکن فیصلے نہیں ہوتے ؟


No comments:
Post a Comment